جامعہ کی سالانہ تقریب کا اعلان
جامعہ بیت العتیق کی سالانہ
تقریبِ ختمِ قرآن و بخاری شریف
علم، تربیت اور خدمت کا ایسا حسین سنگم جو دلوں کو جوڑ دے اور نسلوں کا رخ موڑ دے۔
جامعہ بیت العتیق میں ہر سال منعقد ہونے والی تقریبِ ختمِ قرآن و بخاری شریف محض ایک سالانہ پروگرام نہیں، بلکہ علم، شکر اور تربیت کا وہ سفر ہے جو دلوں میں سکون اور عزم دونوں پیدا کرتا ہے۔ اس موقع پر جامعہ کے ماحول میں قرآن و حدیث کی برکت، طلبہ کی محنت اور اساتذہ کی شفقت ایک ساتھ نظر آتی ہے۔
اس سال بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے 202 طلبہ و طالبات نے قرآنِ کریم اور بخاری شریف کی تکمیل کی سعادت حاصل کی۔ یہ کامیابی صرف ان بچوں کی نہیں، بلکہ ان کے اساتذہ، سرپرستوں اور تمام اہلِ خیر کی مشترکہ محنت کا ثمر ہے۔
شیخ الحدیث دامت برکاتہم کا درسِ بخاری شریف
اس تقریب کی روح اور مرکز شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن ربانی صاحب دامت برکاتہم کا درسِ بخاری شریف ہوتا ہے۔ صحیح بخاری کے آخری ابواب کی تشریح سننا، احادیثِ مبارکہ کے معانی و مطالب کو شیخ کے لبوں سے سن کر دل میں اتارنا، سننے والوں کے لیے زندگی کا قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔
شیخ الحدیث کے درس میں علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ سادگی، سنجیدگی اور عملی زندگی کے لیے واضح رہنمائی ملتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ یہ مجلس طلبہ، اساتذہ اور حاضرین کے لیے صرف ایک علمی نشست نہیں، بلکہ اصلاحِ نفس اور تجدیدِ عزم کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
202 طلبہ و طالبات — محنت، استقامت اور خوشی کا لمحہ
وہ لمحات جب طلبہ کے نام پکارے جاتے ہیں، اسناد تقسیم کی جاتی ہیں، اور قرآن و بخاری کی تکمیل کا اعلان کیا جاتا ہے، جامعہ کے ہر فرد کے لیے خوشی اور شکر کا سبب ہوتے ہیں۔ سال بھر کی مسلسل محنت، یاد کرنے کی مشقت، اسباق کی پابندی، اور اساتذہ کی نگرانی اس ایک دن میں اپنی جھلک دکھاتی ہے۔
ان طلبہ میں سے بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہایت محدود وسائل سے آئے، لیکن جامعہ کے ماحول نے انہیں عزت، سہارا اور مقصد عطا کیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو جامعہ بیت العتیق کو عام اداروں سے الگ اور نمایاں بناتی ہے۔
تقریب کی اہم جھلکیاں
- شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن ربانی صاحب دامت برکاتہم کا درسِ بخاری شریف
- ممتاز علماء کرام کے پُرمغز اور سنجیدہ خطابات
- طلبہ و طالبات میں اسناد اور اعزازی شیلڈز کی تقسیم
- ختمِ بخاری شریف کی پراثر دعا اور جامعہ کے لیے خیر و برکت کی التجائیں
جامعہ بیت العتیق — علم و تربیت کا مرکز
جامعہ بیت العتیق، بن قاسم ٹاؤن، کراچی میں قائم ایک فلاحی دینی ادارہ ہے جو 2004 سے نسلوں کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی کے مضبوط اور مستحکم نظام کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ یہاں 2500 سے زائد طلبہ و طالبات مکمل کفالت کے ساتھ زیرِ تعلیم ہیں۔
جامعہ کے ہزاروں فضلاء کرام آج مختلف علاقوں اور شعبوں میں قرآن و حدیث کی خدمت، امامت، تدریس اور دعوت و اصلاح کے کاموں میں مصروف ہیں، اور یہ سب اسی نظام کے تسلسل کی برکت ہے جو سالہا سال سے قائم ہے۔
جامعہ میں ہر بچے کے لیے اسکول کی تعلیم، حفظِ قرآن، درسِ نظامی، رہائش، کھانا اور علاج — سب کچھ بالکل مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو اہلِ خیر کے تعاون، دعا اور اعتماد سے چل رہی ہے۔
تقریب کا اصل پیغام
جامعہ کی سالانہ تقریبِ ختمِ قرآن و بخاری ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ قرآن و حدیث کی خدمت محض الفاظ کا سفر نہیں، بلکہ دلوں اور زندگیوں کو بدلنے کا نام ہے۔ ان بچوں کی محنت، اساتذہ کی کاوشیں اور سرپرستوں کے اخلاص سے جڑا یہ نظام دراصل امت کے مستقبل کو سنوارنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
جو لوگ اس نظام کو قریب سے دیکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہاں ہر مسکراہٹ کے پیچھے قربانی ہے، ہر کامیابی کے پیچھے محنت ہے اور ہر قدم کے پیچھے اعتمادِ الٰہی اور اہلِ خیر کا تعاون ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جامعہ بیت العتیق کی اس کاوش کو قبول فرمائے، اس کے نظام میں برکت عطا فرمائے، اس کے طلبہ کو علمِ نافع، عملِ صالح اور اخلاص عطا فرمائے، اور اس ادارے کو آنے والی نسلوں تک علم و ہدایت کی روشنی پہنچانے کا ذریعہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔





تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں